سگمنڈ
فرائڈ
جدید
مغربی تہذیب کے معماروں میں تیسرا اہم نام فرائڈ کا آتا ہے،جس کے مطابق نفس
انسانی اِڈ،اِگو اور سپر اِگو میں تقسیم
ہےاور وہ ان کی تشریح اس طرح
کرتا ہے کہ اِڈ انسان کا ایک
لاشعوری حصہ ہے جس کا کام جنسی تسکین کے
پرزور مطالبے کرنا اور انسان میں لذت اندوزی کی ہوس بھڑکانا ہے اس کے وجود کا ایک
ہی مقصد اور وہ ہے فوری حصول لذت،لیکن چونکہ ہر وقت ہر حالت میں کواہشات کی تکمیل
ممکن نہیں ہوتی اس لیے بقول فرائڈ کے اس وقت تک اس کی اِگو کام کرتی ہے اور اس کی
حصول لذت کی تمنا کو اس وقت تک کے لیے دبا دیتی ہے جب تک اس کے کرنے کا
امکان نہ پیدا ہو جائے یعنی کہ اگواس کی اندرونی خواہشات کو بالکل ختم نہیں کر
دیتی بلکہ وہ اڈ کی خواہشات کو اس وقت تک کے لیے دبائے اور چھپائے رکھتی ہے جب تک
اس کی تکمیل کا موقع میسر نہ آجائےاور اس وقت تک وہ ان خواہشات کو خوابوں اور
خیالوں میں پورا کرتی ہے لیکن جیسے ہی
خواہشات کی تکمیل کاموقع ملتا ہے (خواہ وہ جائز ونا کائز کسی بھی صورت میں ہو)وہ
دیوانہ وار انسان کو اس پر ٹوٹ پڑنے کا حکم دیدیتی ہے،فرائڈ کی اسی فکر کو پیش
کرتے ہوے محمد قطب لکھتے ہیں کہ:۔
”فرائڈ
انسانیت کو ایسے فرد کی صورت میں پیش کرتا ہے جو اپنی زندگی میں شہوانی طاقت((Libido کی منھ زوریو ں سے مجبور ہو کر اپنی لذتوں کی تکمیل میں لگا رہتا ہے اگر اس کی
خواہش کی تکمیل بروقت ہوتی رہے تو بہت خوب!ورنہ اس کی کوشش میں لگا رہتا ہے کہ
تمام رکاوٹیں دور کر کے تکمیل خواہش کا
کوئی طریقہ دریافت کرلے،وہ اس وقت بڑا خوش ہوتا ہے جب سماج کے پہرہ داروں
سے بچ بچا کر کسی اخلاقی یا
معاشرتی بندش کو توڑنے کا موقع فراہم ہو جاتا ہے اور وہ پھر بھی معاشرہ کی نظر میں
پاکباز اور شبہ سے بالا تر رہتا ہے
حالانکہ اس
کے من میں وہ کچھ پنہا ہوتا ہے کہ اگرسوسائٹی اس سے واقف ہو جائے تو اسے سخت ترین
سزادے“
گویا انسان کی اڈ
کا کام خواہشات اور مطالبات کرنا ہے
اور اگو کا کام ان خواہشات کی تکمیل کے مواقع فراہم کرنا ہے،
رہاسپر اگو تو
گویا وہ فرائڈ کی نگاہ میں ایک اخلاقی
شعبہ ہے کیونکہ انسان اپنے ذہن کے اس حصہ
کی بدولت اپنے باپ اور اپنے معاشرے کو ایک آئڈیل بناتا ہے اور ان کی روک ٹوک سے اس
میں یہ سمجھ پیدا ہوتی ہے کہ اپنی خواہشات کا کس جگہ استعمال کرنا ہے اور کس جگہ نہیں ۔
لیکن
تعجب کی بات یہ ہے کہ اخلاق کی بندشیں فرائڈ کی نگاہ میں انسان کوایک دوہری شخصیت
بنادیتی ہیں اور اس کے اندر کشمکش کا ایک طوفان بلاخیز موجیں مارنے لگتا ہے ،وہ
اندر سے ایک اور باہر ایک ہو جاتا ہے کیونکہ مثلاً ایک طرف تو بقو ل فرائڈ کےانسان کی اڈ نوزائدہ بچہ
کو اپنی ماں سے جنسی تعلقات بنانے پر
ابھارتی ہے دوسری طرف یہ اخلاقیات ،باپ اور معاشرہ کا خوف اس کی آرزو کی تکمیل میں
حائل ہوجاتے ہیں ،نتیجتاً معصوم بچہ بیک وقت اپنے باپ سے محبت ونفرت کی کشمکش میں
مبتلا ہو جاتاہےاور بسا اوقت اسی وجہ سے وہ بہت سی نفسیاتی بیماریوں کا شکار بھی
ہوجاتا ہے۔
غرض یہ کہ لاشعور کے
پردہ میں چھپی ہوئی اڈ کی یہ جنسی خواہش
ہی در اصل وہ نکتہ ہے جس کے ذریعہ فرائڈ ساری انسانی ذات کی تشریح کرتا حتی کہ
مذہب تک فرائڈ کی نگاہ میں صرف اور صرف جنس ہی کی پیداوار ہےاس کا کہنا ہے کہ
ابتداءزندگی میں کچھ لڑکوں کواپنی ماں میں
زبر دست جنسی کشش (Sexual appeal) محسوس ہوئی لیکن باپ کا خوف حصول لذت میں رکاوٹ تھا اس لیے انہوں
نے تکمیل خواہش کے لیے باپ ہی کو قتل کر
دیا لیکن بعد میں جب انہیں اپنےاپنے کیے پر ندامت ہوئی اور احساس جرم ان پر غالب
آیا تو کفارہ ادا کرنے کے لیے انہوں نے چند رسوم ورواج کی ابتدا کی اور آہستہ
آہستہ وہ رسمیں بڑھتی گئیں یہاں تک کہ ان کا
نام مذہب رکھ دیا گیا۔
خلاصہ یہ
ہیکہ زندگی کے ہر شعبے کو کسی نہ کسی انداز
میں فرائڈ نے جنس سے ہی جوڑا ہے بلکہ یوں کہ لیجیے فرائڈ کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ اس نے ڈارون کے انسان
نما حیوان میں لفظ”جنس“ کا اضافہ کر کے
انسان کو ایک ایسا حیوان بنادیا جس کی
زندگی کی تمام راہیں جنس پر ہی آکر ختم
ہوتی ہیں چنانچہ فرئڈ کے اس نظریہ نے انسانی سماج کو حیوانی رنگ دینے میں وہی کردار ادا کیا ڈارون کے نظریۂ ارتقاء کیا
تھا، پروفیسر ولیم بیگ اپنی کتاب جدید سائنس اور ماہیت حیات میں لکھتے ہیں:۔
”جب ہکسلے نے انسان کے مورث اعلی کے متعلق اپنے
خیالات شائع کیے تو انسان کی مفروضہ تذلیل پر سو سال
تک لوگوں کے منھ کھلے رہ گئے اور پاکبازی و
اخلاق کے علم بردار چہ میگوئیاں کرنے لگے کہ سائنس اپنی حدودسے تجاوز کر رہی ہےفرائڈ
کے سائنسی نتائج کے اعلان پر بھی ایسا ہی واویلا ہوا،بایں ہمہ مرور زمانہ کے ساتھ ارتقاء اور نفسیاتی تجربے کے نظریوں نے مقبولیت
عامہ حاصل کی ۔حقیقت یہ ہے کہ اندونوں نظریوں نے تمام انسانوں کی ثقافت مذہب
کلچر اور روز مرہ کے خیالات پر بے انداذہ اثر ڈالاہے“
لہذا
مناسب ہوگا کہ ہم ایک نظر اس پر بھی ڈال لیں
کہ اس نظریہ نے معاشرہ پر کیا اثرات ڈالے،چنانچہ جیساکہ آپ جانتے ہیں مختف
اسباب (جن کا پیچھے تذکرہ آیا)کی وجہ سے مغربی دنیا خصوصا اور ساری دنیا عمومامادہ
پرستی کا دور دورہ اور انسان کو حیوان مان لینے کی وجہ سے حیوانوں جیسی
لبرٹی اور آزادانہ جیسی بے راہ روی کی بنیاد پڑ چکی تھی لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ
نوجوانوں کو باپ دادا کی مذہبی روایات اور خود انکا ضمیر کچوکے لگاتا تھا ان کی اندرونی فطرت مرد وزن کے آزادانہ اختلاط
کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتی تھی لیکن جب ڈارون نے جنسی خواہشات اور اس کی آزادانہ
تکمیل کو فطرت کی آواز کے طور پر متعارف کروایااور اس کو دبانے کو مختلف نفسیاتی بیماریوں کا سبب بتلایا تو معاشرے سے
وہ رہی سہی بندش بھی ختم ہو گئی جو سماج یا خود انکا اپنا ضمیر لگاتا تھااور اس
طرح انسان پورے طور پر جانور کی صف میں کھڑا ہو گیا ،اس کے مقاصد زندگی بدل گئے،اس
کی تہذیب میں حیوانیت در آئی
غرض یہ کہ چارلس
ڈارون ، کارل مارکس ،سگمنڈفرائیڈجدیدمغربی
تہذیب کے بنیادی معمار کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان سب نے انسان کے صرف مادی و جسمانی پہلو کو قابل توجہ سمجھا ہے
اور ان کے افکار کو دنیا نے ہاتھوں ہاتھ لیا ہے، ان کے علاوہ بھی اہل یونان اور
مغرب میں بہت سے مفکرین گذرے ہیں جنہوں نے انسان کا تعارف ایک حیوان ہی کی حیثیت
سے کرایا ہے چنانچہ امریکہ کے پہلے صدر
بینجمن فرینکلن کے مطابق “A tool-making animal”
کہ انسان ایک ہتھیار اورآلات
بنانے والا جانور ہے ، اسی طرح ایک اور
مغربی مفکر کا کہنا ہے کہ ”An
animal that makes dogmas“ کہ انسان کی
حیثیت اس دنیا میں قاعدے اور قوانین بنا نے والے جانور کی ہے،اور مشہور مغربی ناول
نگار شیکسپیر کا خیال ہے کہ “This quintessence of dust” کہ انسانی شخصیت دھول کا لبِ لباب اور خلاصہ ہے۔
خلاصہ یہ کہ ایک بہت بڑی جماعت نےانسانی شخصیت کے صرف مادی وجسمانی پہلو کو توجہ
دی ہے اور اس کے روحانی عنصر کو بالکلیہ
نظر انداز کردیا ہے، اور دنیا کی
ایک بہت بڑی آبادی اگرچہ فکراً نہ سہی عملاًاسی طرز حیات کو اپنائے ہوئے ہے۔






0 comments:
Post a Comment