زندگی کا ہر شعبہ ،ہر طرح کے علوم و فنون ،ساری سماجیا
ت،اخلاقیات،تہذیب وتمدن غرض سارا انسانی معاشرہ ،کس رخ پر جاتا ہے ، اس کی اخلاقی قدریں کیا ہوتی ہیں ، اچھائی
کیا ہوتی ہے؟ برائی کیا ہوتی ہے ؟ ایک مثالی ائیڈیل Perfect انسان کس کو
کہاجا تا ہے ؟ ان سب سوالوں کا جواب صرف اس میں منحصر ہے کہ انسان کو کیا سمجھا
گیا ، اور کیا سمجھنا چاہیے،اگر کسی کی
نگاہ میں انسان جانور ہے تو اس کے مقاصد زندگی اس شخص سے ضرورعلیحدہ ہونگے، جس کی
نگاہ میں انسان خلیفۃ اللہ فی الارض ہے، یقیناً خاندان، سیاست ،معیشت، معاشرت،طب
قانون غرض زندگی کے ہر میدان میں
چیزوں کو دیکھنے،پرکھنے اور برتنے کے نقطۂ نظر میں ان دونوں افراد کے
درمیان آسمان و زمیں کا فرق ہو گا ،
موجودہ دور میں رائج تہذیب میں جو عام بربریت دکھائی دیتی ہے اس کی اصل بنیاد یہی
ہے کہ انسان کو ایک جانور سمجھا گیا ہے ، اور مغرب کے کچھ مفکرین نے انسان کو
جانور بنانے میں بہت ہی اہم کردار ادا کیا ہے، جن کا تعارف ہم اس مضمون میں کرائیں
گے۔
ڈارون
دور حاضر کے تصور انسان پر بات کرتے ہوئے
اس حقیقت کو جاننا ضروری ہے کہ ڈارون کا نظریہ ارتقاءمادی دنیا کی تاریخ کا ٹرننگ
پوئنٹ ہے کہ جس کے بعد عمومی اور اکثری طور پرروحانیت کی ضرورت بلکہ گنجائش نہیں رہی کیونکہ ڈارون نے اس مسئلہ
سے دنیا کو علمی طور پر متعارف کرایا تھا اور انسان جب کسی بات کو علمی طور پر
فطری سمجھ لیتا ہے تو اس تقاضوں پر بلا
تکلف عمل بھی کرنے لگتا ہے،ڈارون سے پہلے جتنے لوگوں انسان کو جانور کی طرف منسوب
کیا اور انسان کو جانور کی نسل قرار دیا
،کسی نے بھی اس کی کوئی علمی دلیل نہیں دی،ڈارون وہ پہلا شخص ہے جس نے سائنس کے
ذریعہ انسان کو جانور کی اولاد ثابت کیا،یہ الگ بات ہے کہ بعد میں چل کر نظریۂ ارتقا اور اس کے دلائل پر جو اعتراضات
ہوئے اور DNAاور
جینز کی دریافت نے اگر چہ ان دلائل کے بودہ پن کو ظاہر کردی لیکن اس کے اثرات اور
دور رس نتائج سے دنیا کو نہ بچایا جا سکا کیونکہ جب دلائل کی روشنی میں یہ بات
ثابت ہو گئی کہ انسا ن بندر اور بن مانوس کی ترقی یافتہ شکل ہےتو انسان میں
روح کے وجود کی بات تو بہت دور کی ہے
انسان اور جانور کے اساسی مقاصد زندگی میں کوئی فرق نہیں کوئی فرق نہیں رہ گیا کھانا ،پینا اور جنسی خواہشات کی تکمیل کرنا جس
طرح جانوروں کا شیوۂ زندگی ہے انسانوں کابھی بن گیا ، اور اہم بات یہ ہے کہ یہ
دعوی جن دلائل پر قائم ہے وہ بھی بجائے خود
انسانی تہذیب کوحیوانی تہذیب میں بدل ڈالنے کے لیے بہت کافی ہیں ،آپ خود
دیکھئے کہ Struggle for Existence (جہد للبقاء)Survival of the
fittest (بقاء اصلح) جیسے اصول انسانوں کو کیا دعوت
دے رہے ہیں ؟ وہ کہ رہے ہیں کہ جس طرح حیوانی تہذیب میں صرف طاقتور ہی کو جینے کا
حق ہے اسی طرح انسانوں میں طاقتور ہی کو ہونا چاہیے کیونکہ ڈارون کے ان
مذکورہ بالا بے بنیاد دلائل کا خلاصہ یہ ہے کہ کروڑوں سال پہلے دنیا میں مخلوقات کی کثرت اور خوراک کی قلت کی
وجہ سے یہ ضروری تھا کہ زندگی گذارنے کے لیے سخت جدوجہد کی جائے اور طاقتور اپنی
بھوک اپنے سے کمزور کو ہڑپ کر کے مٹائے،اورکمزور وناتوں کی اس کشمکش کا نتیجہ یہ
نکلا تھاکہ زندگی صرف اسی کا حق بن گئی جس
میں جینے کی صلاحیت ہو،رہا بیچارہ کمزور تو جلد یا بدیر اس کی قسمت میں تو صرف ہلاکت تھی ، ایسا ہزاروں سال
تک ہوتا رہا اور آخر ایک انہی باقی رہ جانے والے جانوروں سے ترقی کرکے
انسان وجود میں آگیا
اس
نقطۂ نظر سے اگر ہم انسانی زندگی پر غور کریں
تو دور حاضر کی کشمکش حیات میں نہ
ڈاکو ڈاکہ ڈال کے برا ہے نہ ظالم ظلم کرکے برا ہے کیونکہ جینے کا حق تو صرف انہی
ظالموں کے پاس ہے ،کمزور اور مظلوم کو یہ حق کیسے ہو سکتا ہے۔
کارل
مارکس
ڈارون
کے بعد کارل مارکس وہ شخص ہے جس کے نظریۂ حیات نے اہل یورپ بلکہ ساری دنیا پرگہرے نقوش چھوڑے ،
مارکس کی ساری فکر کاخلاصہ اگر ہم دو لفظوں میں کرنا چاہیں تو بات صرف اتنی ہے کہ مارکس کی نگاہ میں انسان
ایک معاشی حیوان ہے یعنی انسان ایک ایسا جانور ہے جس کی ساری زندگی اس کے پیٹ کے گردچکر
کاٹتی ہےاس کی نگاہ میں انسانی زندگی کی
حقیقت یہ ہے سماج کا اصل مسئلہ طلب معاش ہے جس کا حل اس کی نگاہ میں اشتراکیت ہے
چنانچہ اشتراکیت کی دعوت دینے کے لیے اس نے انسانی سماج کی ایک بالکل انوکھی تشریح
کی ضرورت سمجھی کہ ہر دور میں کوئی نہ
کوئی رائج الوقت ذریعۂ معاش ہوتا ہےپھر مادی اسباب و وجوہ کی بنا پر ٍکوئی دوسرا
ذریعۂ معاش اور تقسیم زر کی دوسری شکل وجود میں آجاتی ہےاور ان دونوں نظریہائے
معاش میں ایک کشمکش اور طبقاتی نزاع شروع ہو جاتا ہے اور بالآخر اس کشمکش کے نتیجہ
میں دونوں طریقوں کوملاکرطلب معاش کے کچھ نئے نظریات وجود میں آتے اور رائج ہو جاتے ہیں ،یہی انسانی زندگی ہے اور
اسی کے لیے ساری تگ و دو اور جنگ وجدال ہے،
رہامذہب اعلی اور اچھی اخلاقی قدریں یہ تو ہر زمانے کا انسان طلب معاش کے
بہانے کے طور پر اختیار کر لیتا ہےلہذا ان چیزوں کی اس سے زیادہ کوئی وقعت نہیں کہ
یہ انسان کے لیے ایک معاشی خدمت گار ہیں۔
کارل
مارکس کا یہ طرز فکر بعینہ وہی ہے جو ہیگل نے پیش کیا تھاسوائے اس کے کہ ہیگل کے یہاں اس طبقاتی نزاع
کی اصل وجہ ایک خیال مطلق یا عقل کل تھی
جب کہ مارکس کے یہاں مادی اسباب ووجوہات اور طلب معاش کی جستجو اس کی وجہ
ہے،مارکس خود کہتاہے کہ:۔
”میرا
جدلیاتی طریقہ نہ صرف ہیگلی طریقے سے مختف ہے بلکہ اسکے براہ راست برعکس ہے ،ہیگل
کے خیال میں غور وفکر کا زندہ عمل جسے وہ” خیال “کے نام سے آزاد فاعل میں تبدیل کر
دیتا ہے حقیقی دنیا کا اصل خالق ہےاور حقیقی دنیا خیال کی صرف بیرونی مظہری شکل ہے۔اس کے
برعکس میری رائے میں عین خیال مادہ کے سوا کچھ نہیں ،جس کا انعکاس انسانی ذہن میں
ہوتا ہے اور جو فکر کی شکلیں اختیار کرتاہے “
مارکس نے ہیگلی فلسفہ
کے روحانی پہلو کو رد کر دیالیکن وہ ساتھ ہی ساتھ ہیگل کے جدلیاتی اور معاشرہ کے
طبقاتی نزاع والی فکر کو سراہتے ہوئے لکھتاہے کہ:۔
”ہیگل کے ہاتھوں جدلیات
پر اسرار ضرور بن گئی لیکن اس نے اسے وہ پہلا مفکر ہونے سے نہیں روکا جس نے جدلیات
کے عمل کی عام شکل کو جامع اور باشعور طور پر پیش کیا ہیگل کے یہاں جدلیات اپنے سر
پر الٹی کھڑی ہےاگر کوئی پر اسرار خول کے اندر عقلی مغز دریافت کرلے تو اسے الٹ کر
سیدھا کردے“
یعنی مارکس کو ہیگل کی
جدلی فکر پسند ہے اور اسی سے اس نے اپنی
فکر نکالی ہے ،بس فرق یہ ہے کہ ہیگل کے
یہاں اس تنازع اور کشمکش کاسبب خیال مطلق ہے جبکہ مارکس کے یہاں یہ تنازع
مادی اسباب اور طلب معاش کا نتیجہ ہے۔
اور یہ بات بھی قابل
ذکر ہے کہ نظریۂ ارتقاء کی طرح ہی مارکس کے اس نظریہ کے نتائج بڑے دور رس ثابت
ہوئے ہیں بلکہ حق تو یہ ہے کہ نظریۂ
ارتقاء ہی دراصل مارکس کے اس فلسفے کے لیے روح رواں ہے اور ہیگل کی اس روحانی جدلیت کو مادی جدلیت
کی طرف پھیرنے کے لیے مارکس کو اسی نظریۂ ارتقاء سے مدد ملی ہے کیونکہ نظریۂ
ارتقاء نے ہی پہلی مرتبہ انسان کو مکمل حیوان بنایا تھا ،مارکس کا کارنامہ صرف یہ ہے کہ اس نے حیوان کے آگے”
معاشی “کا اضافہ کرکےانسان کو ایک معاشی حیوان بنادیایہی وجہ ہے کہ مارکس Das
capital(وہ کتاب جس میں اسنے اشتراکیت اور مادی
جدلیت کا فلسفہ پیش کیا)کو ڈارون ہی کی طرف منسوب کرتا ہے اور اس کے جرمن ایڈیشن
میں لکھتا ہے کہ” ایک مخلص مداح کی طرف سے چارلس ڈارون کے نام“۔
خلاصہ
یہ کہ وہ جدید مغربی تہذیب جس نے انسان کو ایک مکمل حیوان کے طور پر پیش کیا ،کارل
مارکس اس کے اہم معماروں میں سے ایک ہےجس نے انسان کو جانور کی طرح پیٹ کا بندہ
بنایا ہے۔ (جاری)






0 comments:
Post a Comment